پیر، 9 اکتوبر، 2017

                                               کالم نگار عمار ملک
                     
           حکمران ہو تو ایسا کے قوم فخر کریں
رجب طیب اردگان 26 فروری 1953 کو استمبول ترکی میں پیدا ہوئے ان کے والد ترکش فورس گارڑ کے ممبر تھے طیب اردگان کی تعلیم بات کی جائے تو انھوں نے ابتدائی تعلیم سماء پیلے استمبول میں حاصل کی انھوں نے بزنس ایٹمیسٹریشن میں ڈگری اکسارے سکول آف منجمنت سائنس میں حاصل کی پھر انھوں نے مارا مارا یونیورسٹی سے اکنامکس میں ڈگری حاصل کی رجب طیب اردگان نے اپنا سیاست کا آغاز طالب علمی کی زندگی سے کیا انھوں نے 1973 قومی ترکی طالباء یونین کو جوائن کیا انھوں نے 1974میں ایک کتاب لکھی جس میں کمینوزم کو شیطان کا قانون کا درجہ دیا 1976 بیاگلو نوجوان پارٹی کے سربراہ مقرر ہوگئے ان کی سیاسی زنرگی کا اہم موڑ سامنے آیا جب وہ 1974 کو ترکی کے دارالحکومت استنبول کے میئر منتخب ہوگئے ان کی آتے ہی ترکی میں خوف وحراص پھیل گیا کہ یہ اب استنبول میں شہریت کا قانون  نفظ گے لیکن طیب ارداگان نے سب سے پہلے استنبول کا سب سے بڑا مسئلہ جوکہ پانی کاتھا اس کو حل کرتے ہوئے درجنوں 100کلو میٹر کی پائپ لائن بچھائی جس سے استنبول کا 70سالوں پرانہ مسئلہ حل ہوگیا اسکے بعد ان کی زندگی تبدیل ہو کر رہ گئی ان کی شہرت کا گراف آسمانوں پر پہنچ گیا 2001میں انھوںنے جسٹس پارٹی کی بنیاد رکھی اور 2002 کی الیکشن میں بھاری اکثریت حاصل کیا اور 2003سے 2011تک ترکی کے صدر رہے رجب طیب اردگان 28اگست 2014 سے صدارت کے منسب پر فائض اور عدالت ترقی پارٹی کے سربراہ ہے جو ترک پارلیمان اکثریت رکھتی ہے اکتوبر 2009 میں پاکستان کے دورے پر رجب طیب اردگان کو پاکستان کا سب سے بڑاعزاز نشان پاکستان سے نوازاگیا اور دنیا کے نمور اداروں نے اعلئ سول ایواڈ سے نوازا اور ڈاکٹریت کی ڈگری دی گئی2008میں غزہ کی پتی پر اسرائیل کے حملے کے بعد طیب ارداگان کی حکومت نے اپنے قدیمی حریف اسرائیل کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کیا اور عالمی سربراہ کانفرس میں انھوں نے سخت احتجاج کیا اور جب اپنے ملک آئے تو عوام نے شاندار استقبال کیا اس واقعہ نے ان کو عالمی اسلام میں ہیرو بنا دیا
جولائی 2015 میں فوج نے جب بغاوت کر دی تو اس سازش کو ترکی کے عوام نے سڑکوں پر نکل کر ناکام بنادیا انھوں نے 1978میں امناگول بارن کے ساتھ شادی کرلی جس سے ان کے چار بچے ھے طیب ارداگان کی دولت کی بات کی جائے تو وہ ترکی کے دس امیر ترین لوگوں میں شمار ہوتے ہے اور وہ 185ملین ڈالرکے ملک ہے ان کے استعمال میں دنیا کا سب سے بڑا صدرتی محل اردگان پالس ہے جس کی قمیت 500ملین ڈالر ہے آپ یہ سوچ رہے ہو گئے کے کیا وجہ ہےکے عوام اتنا پیار کرتی ہے طیب اردگان سے تو اب میں بتاتا کے ایسا کیوں ہے  طیب اردگان نے اپنے دورے حکومت میں آئی ایم ایف کا 5۔23 ارب ڈالر کا ملکی قرضہ زیرو کر کے آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک قرضہ دینے کی آفر کر دی لادینی ملکی تعلیمی نظام کو اسلامی بنانے کے لیئے اقدمات کیے جس کے نتیجے میں جن اسکولوں میں جن طالب علموں کی تعداد 65000تھی وہ 8لاکھ ہو گئی ملکی یونیورسٹیوں کی تعداد 98سے بڑھا کر 190کر دی 12سال کی عمر سے قبل قرآن پڑھنے پر پابندی ختم کر کے اور تمام اسکولوں میں قرآن پڑھانا اور دینکی تعلیم دینا لازمی قراردے دیا مسجد اور اسکول کے 100میٹر احاطے میں شراب کا اشتہار ممنوع قرار دیا صرف ایک سال میں 17000نئی مساجد کی تعمیر اور پرانی مساجد بحال کی ساری قوم کےلئیے گرین کارڈکا اجراء کیا جس کے تحت کئی ترکی باشندوں کو ملک کے کسی بھی ہسپتال میں مفت علاج کی سہولت حاصل ہوگئی خواتین کے لیے پردے کے ساتھ ڈیوٹی کی اجازت دی اور ایک خاتون جج نے 2015 میں اصکاف پہن کر کیس سنا تو اہل یورب میں اہم خبر بن گئی سودی نظام کی بجائے زادات اسلامی بنک کو ترجیح دی کر عوام کو سیدھی راہ دکھائی 2002 میں زدمبادلہ کے زخائر 5۔26بلین ڈالر سے 150بلین ڈالر ہو گئے بارہ سال میں ہوائی اڈاوں کی تعداد 26سے 50کر دی ترکی کو صرف سیاحت سے حاصل ہو نے والی سالانہ آمدانی 20عرب ڈالر ہے 2002سے 2011تک دس سالوں میں 13500کلومیٹر طویل سڑکوں کی تعمیر کی 2009میں ترکی میں تیز رفتار ریل گاڑی چلنے لگیں 1076کلومیٹر نئی ریلوے لائنیں بچھا دی اور 5449کلومیٹر کی مرمت کی ترکی کا تعلیمی بچت 7۔5 عرب ڈالر بڑھاکر 34عرب ڈالر کر دیا رجب طیب اردگان نے استبول کو پولوشن فری کرائم فری مافیہ فری اور رواں دواں ٹریفک والاشہر بنا دیا انھوں نے پانی اور گیس کی لوڑشیڑنگ ختم کی اور بلوں میں بھی نمایاں کمی کی ترکش ائیرلائن یورپ کی بہترین اور دنیا کی ساتویں ائیرلائن بن گئی 2011میں ان کی پارٹی نے 88۔49فیصد ووٹ لئےیہ ہے وہ کارنامے جب کی بدولت آج کا ترکی اسلامی دنیاکا سربراہ بننے جا رہا ہے اسی سنہرے کارناموں کی برولت رجب طیب اردگان عوام کے دلوں راج کر رہے ہے اب آپ اس کا موازنہ کریں پاکستان سے تو ہم قائد کے بتائے ہوئے اصول اور علامہ اقبال کا فلسفے سے بہت دور چلے گئےہے یہاں تو ریاست کا معائدہ ہی بدل دیا ہے اور اب ریاست جدید ترقی کرتے ہوئے عوام کے بنیادی حقوق بھول کر میٹرو اور موٹروے بنانے میں مصروف ہے جو شہری کا معائدہ تھا ریاست کے ساتھ جان مال صحت تعلیم روزگار اور برابری کا تحفظ وہ ہی بدل دیا جس کی دنیا کی تاریخ میں مثال نہینں ملتی اسمیں عوام کا بی قصوار ہے کیوں کے ہم ایک قوم نیہں ہجوم ہے جو عارضی چیزوں پر خوش ہو جاتے ہے  اور اپنے اصل حقوق بھول گئے میں ناآمید نیہں عوام سے انشاءاللہ وہ وقت دود نیہں جب باہر سے لوگ نوکریاں کرنے پاکستان آئے گے اور ہم خوشی سے کہے گے  اہے قائد ہم نے تیرے اصول کو اپناکر ترقی کی                                                                                            نہیں ناامید اقبال اپنی دشتےویراں سے زدا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی                                                                                                                امید ہے آپ کو میرا کالم پسند آئےگا

ہفتہ، 30 ستمبر، 2017

                                                کالم نگار عمار ملک
                         مجھے کیوں نکلا 

پانامہ لیکس دراصل وہ خفیہ کاغزات ہے جس کے زریعے یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ کیسے دنیا کی بڑی بڑی شخصیات نے اپنے اثاثے چھپائے اور ٹیکس دیئے بغیر ہی پانامہ میں سرمایا کاری کی پانامہ دستاویزات 11۔5ملین خفیہ کاغزات ہے جسے قانونی مشاورتی کمپنی موسک فنیسیکا نے بنایا تھایہ کمپنی پانامہ میں قائم ہوئی اس کے پوری دنیا میں چالیس دفاتر ہے یہ دنیا کے چار بڑی قانونی کمپنی  ہے اور اس کی وجہ شہرت بڑی بڑی شخصیات کے اثاثے چھپانے اور ٹیکس چوری میں مدد دینا ہے 2015 میں ایک جرمن اخبار سے ایک نامعلوم شخص نے رابطہ کیا اور اسے موسک منیسیکا نامی ایک مشہور قانونی فورم کے قمیتی کاغزات دینے کی پیشکش کی جرمن اخبار نے یہ سارے دستاویزات عالمی تحقیق میں ایک سال دوران سو صحافتی تنظیموں سے اور 80ملکوں سے تعلق رکھنے والے 400 لے قریب صحافیوں نے حصہ لیا جس میں پاکستان کے طرف سے صحافی عمر چیمہ نے حصہ لیا یہ تحقیقات عالمی سطح پر کی بہت بڑی مثال ہے ان میں بی بی سی کی ٹیم برطانوی اخبار  فرانسیسی اخبار اور ارجنتیئن کے اخبار شامل ہے انھوں نے پورے ایک سال ان کاغزات پر تحقیق کی اور بالا آخر چلا کے وہ تمام کاغزات بلکل ٹھیک اور درست تھی جرمن اخبار نے اس کا ایک خلاصہ اپنے اخبار میں شائح کیا اور اس کو پانامہ لیکس کا نام دیا گیا ان کاغزات میں سابق اور موجودہ دور کے سربران مملکت کے نام شامل ہے

اس لیکس میں کی دوسری قسط 2016 میں شائح کی گئ  جس میں پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف اور ان کے بچوں کا نام شامل ہے اس میں اثاثوں کے بارے میں بتایا گیا کے کس طرح سے شریف فمیلی نے غیر قانونی طریقے سے آف شور کمپنی کے زریحے پیسے چپائے ان کے علاوہ 200اور پاکستانی بھی شامل ہے یہ معاملہ جب پاکستان آیا تو حزب اختلاف نے وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کیا وزیراعظم نے ایک سابق جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھا لیکن چیف جسٹس نے یہ کمیشن باننے سے معزرت کر لی کھچ وقت بعد یکم نومبر کو چیف جسٹس نے کمیشن بنانے پر اتفاق کر لیا یوں اس کیس کا آغاز ہوگیا اور کیس کی سماعت شروع ہو گئی کھچ عرصے چلنے کے بعد چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے یہ کیس اگلے چیف جسٹس کے لئے چھوڑ دیا کیوں کے وہ ریٹیر ہو گئے پھر یہ کیس دوبارہ شروع ہوا چیف جسٹس کی سربرائی میں اور یوں یہ کیس چلتا رہا  یہ کیس تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان جماعت اسلامی کے قائید سراج الحق اور شیخ رشید شامل تھے جنھوں نے سپریم کورٹ میں درخواست دی کے نواز شریف 62کے تحت صادق امین نہیں رہے اور یہ کیس 15 مہینے چلتا رہا اور نوازشریف اور حزب اختلاف  نے وکلاء اپنے دلائل دیئے  لیکن نوازشریف کی طرف سے ایک دستعاویزات نہیں دی گئی عدالت میں جس سے پتہ لگ سکے کے وہ بے گناہ ہے اور یوں قطری شہزادے کا خط نامودار ہوا جس میں زکر تھا کے یہ پیسے میرے باپ نے دیئے تھے نوازشریف کو عدالت نے اس کو بھی ماننے سے انکار کر دیا کیوں کے نیب کے قوانین کے مطابق جب آپ مان لے کے یہ جائیداد میری یے تو پھر یہ بتانا پرتا ہے کے کہا ہے وہ زدائع جن سے یہ اثاثے بنائے سماعت پوری ہوئی اور عدالت نے 20اپریل کو فیصلے کارن مقرر کیا اورسپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے فیصلہ سنایا اور دو سنئیر ججز نے نوازشریف کو نااہل کرار دیا جب کے تین اور ججز نے کھچ وقت اور لیا تاکے ثبوت مے اور بہتر فیصلہ کر سکے اور یوں جے آئی تی بنائی جس میں چار حکومتی ادارے اور دو فوجی ادارے کے نمائندے شامل کیے اور ان کا سربراہ آبی کے واجد ضیاء کوبنایا اور ان کو نیب کے تمام اختیارات دیئے تاکے وہ آزاد طریقے سے تعقیقت کر سکے اور2مہینے میں رپورٹ جمح کرنے کو کہا اور ہر 15دن بعد عرضی رپورٹ جمح کرنے کا کہا جے آی تی نے شریف خاندان کو طلب کیا اور اور وہ بارہ سوالوں کےجوابات منگے  وہاں بی یہ ناکام ہوئے اود جے آئی تی نے ثبوت بی اکھتے کیے دوسرے ملکوں کے اداروں جس سے یہ پتہ چلتا تھا کے شریف خاندان جھوٹ بول رہا ہے اور عدالت میں بی غالت بیانی کی اور یوں 2 مہینے بعد جے آئی تی نے رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی  جس میں شریف خاندان پر پورانے کیس دوبارہ کھولنے کی سفارش کی ںوں عدالت نے 28 جولائی کو فیصلہ دیا اور پانچوں ججز نے نوازشریف کو نااہل کرار دیا اور بچوں اور اسحاق ڑار کا کیس نیب کے حوالے کیا کے وہ مزید تحقیقت کریں کیوں کے سپریم کورٹ ڈارئل کورٹ نیہں ہے نیب ہے وہ سزا رے گی


اس تمام کیس میں جو 15مہینے چلا اس میں شریف خاندان بوری طرح ناکام ہو ہے ثبوت دینے میں آپ اندازاہ کریں کے اگر آیک گھر آپ کا ہے تو اس کے کاغزات اپ کے پاس ہو گئے اور اپ کو یہ بی پتہ ہو گا کے زدائع آمدن کیا ہے جن سے یہ پیسے کمائے حیران کن طور پر 16سال کے بچے 600کڑورکے ملک ہےجس عمر میں بچے میٹرک کرتے یے نہ ایک ایسا مجزہ جیسے رہیتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا اور اسحاق ڈار بی خوب حیران کر رہے ہے جن کی دولت میں 800گنا اضافہ ہوا ہے جو 80کڑور سے 800کڑور ہو گے کاش اسی طرح پاکستان کی اقتیصادی مسائل بی ایسے حل ہو جیسے ان کی دولت میں افافہ ہوا یے لیکن ایسا نہیں ہو گا کیوں کے جنکا سب کچ ملک سے باہر ہو تو وہ اس ملک میں کیا کریں گے جب بی مشکل وقت آئے گا بھاگ جائے گے جاسے مشرف دور میں گئے تھے این اراوہ کر کے  میاں صاحب یہ وہ حقائیق جن کی بنا پر آپ کو نکلا گیا  عوام کو بیواقوف بنا نیہں سکتے آخر میہں پیش خدمت ہے یہ گیت مجھے کیوں نکلا مجھے کیوں نکلا


امید ہے آپ کو میراکالم پسند آئے گا

جمعہ، 29 ستمبر، 2017

                                               کالم نگار عمار ملک
           
               انسانیات کی رہنمائی کے اصول

آج کل ہر بندہ یہ چاہتا ہے کے وہ کا میاب ہوجائے اور اگر آپ ان کو بتایا جائے کے بغیر محنت کے آپ کامیاب ہو جائو گے تو اس سے اور خوشی کی کیا بات ہو گئ کے بنا کسی معشقت کے کامیابی مل جائے گی انسان بنیادی طور پر خواہیش پسند ہے وہ ہر روز ایک نئ خواہیش کی تکمیل میں لگ جاتا ہے اور سبق یہ نہیں سیکھتا کے خواہشات ایک ایسا دھندہ ہے جو جان لے کرہی جان چھوڑے گا                                           

                                                            بل گیٹس
ان لوگوں کیلئے کا میاب بنو جو تمیہں ناکام دیکھنا چاہیتے ہہں 

                                                واصف علی واقف
غلام کو غلامی نہ پسند ہو تو کوئی آقا پیدا نہیں ہو سکتا
                                                    ولیم شیکشپیر
دوسروں کو اپنی اچھائی دیکھانے کی ضرورت نہیں ہے خود اچھے رہو  دوسروں کو اپنے آپ دیکھ جائیگا

                                                         والت ڈزنی   جس انسان نے ایک بار آزادی کا مزہ چکھ لیا وہ پھر کبھی غلام بن کر خوش نہیں رہ سکتا

                                                           سٹیو جابذ
ممکن کام تو ہر کوئی کر لیتا ہے تمہیں نا ممکن کو ممکن بنانا ہے

                                                        شیخ سحدی
اس سے تو خا مو شی بہتیر ہے کے کسی کو دل کی بات کہہ کر پھر اس کو کہا جائے کے کسی کو نہ کہنا

                                                 سندیپ مہیشوری
اس طرح کا انسان بنیں جس طرح کے انسان سے آپ ملنا چاہیتے ہیں

                                                جلال الدین رومی
اگر تم عظمت کی بلندیوں کو چھونا چاہیتے ہو تو اپنے دل میں انسانیت کیلئے نفرت کی بجائے محبت آباد کرو

                                                  نیولین بونا پارت
میری کامیابیوں میں میرے مضبوط ارادوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے

                                                         مارتن لوتھر
صحیح کام کرنے کیلیئے وقت ہر پل صحیح ہوتا ہے

                                                            آئن سئائن
کامیابی حاصل کرو لیکن پیسے کیلئے نہیں بلک اپنی پہچان بنانے کیلئے

                                                            گوتم برھ
عزیز چیزوں سے ہی غم پیدا ہوتا ہے اور عزیز چیزوں سے ہی خوف  جو عزیز چیزوں کے خوف اسے آزاد ہے اسے خوف ہے نہ غم
                                                               ارسطو
دنیا میں ہر چیز بہانے سے ملتوی کی جاسکتی ہے مگر تقریر اور موت کو نہیں

                                            اجمل داسی جئے پال
لیڑر وہ ہے جو راستہ جانتا ہے خود چلتا ہے اور پھر دوسروں کو بھی وہ راستہ دکھاتا ہی ہے

                                                         بانو قدسیہ
انسان غم کی گرفت ہے کبھی نہیں نکلتا خوشی محض تھکان اتارنے کا وقف ہے


انسان ہر روز زندگی میں سیکھتا ہے کیوں کے انسان غلطی کرتا ہے اور سبق حاصل کرتا ہے تاکے دوبارہ وہ نقصان نہ اٹھائے اور کیا سیکھا کامیابی حاصل کرو ناکامی کو شکت دے کر قوم غلام ہو تو آقا بھی غلام ہوتا ہے خود اچھے ہو تو آپ اچھائی نظر اجاتی ہے یہ کبھی نہیں ہو کے جھوٹ نے سچ کا مقابلہ کیا یو سخاوت کرنے والا ساری زندگی سکون سے دہتا ہے  موت کا مزہ تو ہر بنرے نے چکنا ہے تکدیر کبھ نہیئ بادلتی سوائے دعا کے


امید ہے آپ کو میرا کا لم پسند آئے گا 

اتوار، 24 ستمبر، 2017

                                                کالم نگار عمارملک رسول پور کی بلی بی گر یجویت ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔        
دور دراز علاقوں سے ایک تو خبر ہی مشکل سے اتی ہے اتی بی ہے تو اکثر بری خبر ھی ہوتی ہے شایر اسی لیے رسول پور جسے گاوں  میں 99 فیصر شرح خوانرگی اور 0 فیصر جرائم رکھنے کے باوجور نھی تو یہ قومی سطح پر اجاگر نہیں کیا جاتا                       کراچی سے پشاور کی سمت  شاہراہ سندھ کے آتھسویں کلو میٹر کے بعد  آپ کو دائیں جانب ایک بورڈ نظر آئے گا رسول پور سر ساری گزر جائے تو یے ایک محمولی سا گاوں لیکن اگر غور سے ریکھیں تو بہت کچھ مختلف نظر آئے گا دوسرے شہروں کی نسبت کوئی گلی توتی نہیں کوئی کوچہ وہران نہیں کہیں تو گندگی ملے مگر بینسوں کے بہاروں میں بی نہیں بچے بچیاں جوگ در جوگ اسکول جاتے ہے مگر اس میں بھلا کیا خاص بات ہے سب جگہ بچے اسکول جاتے ہے لیکن رسول پور یوں الگ ہے کے یہاں کے لوگ اقوام متحرہ کی یے تعریف نہیں مانتے کے خواندہ انسان وہ ہے جو صرف حروف تہجی لکھ سکے اور رستخط کر سکے یہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کے عالمی معیار جو بی ہو ہمارے ہر بچے کا میٹرک ہونا ضروری ہے اگر کسی نے میٹرک نیہں کیا تو وہ پڑھا لکھا نہیں کہتے یہاں تعلیم کا یے رستور بی نہیں کے بچے اسکول نہیں جائے گا یے بات کسی علاقے کے کسی فرد کے دماع میں نہیں اس گاوں کی آبادی 2000 بلوچ اور احمدیوں پر مشتمل ہے جن کے بزرگوں نے 200برس سیلاب  کی وجہ سے پانچ بار ہجرت کی اور پھر 80برس پہلے یہاں آباد ہوگئے ان کا ایک بزرگ گیا تھا دھیلی وہاں انھوں نے اسلامی تعلیم حاصل کی  ہہی1800 صدی کی بات ہے پہلے زمانے کے لوگوں کا تعلیم حاصل کرنے کا رواج نہیں تھا زیادہ تر کاشت کاری کیا کرتے تھے پھر بزرگ نے ان لوگوں کو تعلیم حاصل کرنے کا کہا تین کوگ اس گاوں سے تعلیم کے لیے گیئے اور ایک سلسلہ شروع ہو گیا ایک پولیس آفسیر عارف نواز  سالانہ ایک رسالہ نکلتا تھا اس میں اس نے لکھاکے رسول پور کی بلی بی گریجویت ہے 1935 میں یہاں لڑکوں اور لڈکیوں کے لیے دو الگ پرائمری اسکول بنائے اور اس طرح یہاں کے لوگوں کی سماجی سوچ میں تبریل کر دیا یہاں حیران کن طور پر مرد ہر فیصلے میں عورتوں کو شامل کرتے ہے اور یہاں عورتیں ڈاکتر اور انجینیر ہے اور نوکریاں بی کرتی ہے رسول پور کے لوگوں کے اپنے کھچ ضابتے اور اصول ہے پورے گاوں میں کوئی بندہ نشا نہیں کرتا یہاں چائے کا کوئ ڈابہ نہیں ہے کوئ باہر کا بندہ یہاں زمین نہیں خرید سکتا اور زیادہ پیسے پر بی نہیں ملتی یہاں باہر کے لوگوں کو غم اور خوشی میں نہیں بولتے نہ کاروبار کرنے کی اجازت ہے 1933 میی یہ گاوں آباد ہوا اور آب تک ایک دپورٹ تک درج نیہں ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں نہ امید اقبال اپنے دشت ویراںسے زرا نم ہو تو یہ مٹی بٹری زرخیز ہے ساقی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                    رسول پور کے چاروں طرف اور بی قبائل آباد ہے لیکن ہر کوئی رسول پور نہیں انسان کے زنرگی گزارنے کے اصول ہوتے ہے جیسا کے مسلمان ایک اللہ اور ایک رسول کو مانتے ہے اور رین کے مطابق زندگی بسر کرتے ہے اسی طرح ایک ریاست اور اس کے شہریوں کے کھچ زمہ داریاں ہے اگر  کوئی ستم ہو کامیاب عوام ہی بانتے عوام کو سمجھنا چاہئے کووٹ  ڑالنا بہت ضروری ہے  جہہاں سوچ یہ ہے کے ہمیں کیا جو ہیوتا ہے ہو  اس تمام گفتگو سے یہ سبق ملتا ہے کے اگر لوگ چاہے تو خود انقالاب لا سکتے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔      زرا سو چئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ قرآن میں فرماتا ہے کے میں اس قوام کی حالت نہیں باڈالتا جو خود اپنی حالت نا باڈالنا چائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امید ہے میرا کالم آپ کو پسند آئے گا